Kamiyabi 30 dino'n mein By Sabir ChaudharyKamiyabi 30 dino'n mein By
ان تمام لوگوں کے لیے جو تیسری دنیا کی اقوام کے بارے میں بہتر تفہیم کے خواہاں ہیں، کی کتاب تعارفی اور پس منظر کی معلومات فراہم کرے گی۔
دادُر: مینڈک
" Annie Proulx's "Brokeback Mountain
متفرق تنقیدی مقالات پر مشتمل ناصر عباس نیّر کا یہ تازہ مجموعہ چار حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے حصے میں شامل مقالات زیادہ تر نظر ی مباحث سے متعلق ہیں ۔جیسے: مطالعہ کیسے کیا جائے، عالمگیریت کا ثقافت اور ترجمے سے کیا رشتہ ہے، تانیثیت کی چوتھی لہر کا اختصا ص کیا ہے؟ دوسرے حصے میں شاعری کو موضوع بنایاگیا ہے۔ اس میں پہلے شاعری اور استعارے کے مسئلے کی مختلف جہات کو تفصیل سے مگر نئی بصیرتوں کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے اورمجید امجد، ڈیرک والگوٹ، ساقی فاروقی ، زاہد ڈار اور علی محمد فرشی کی نظموں کو نئے زاویوں سے سمجھنے کی سعی کی گئی ہے۔
لبرلزم کے مزدور دشمن نظریات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اسی طرح ان نظریات کا استحصالی قوتوں کے ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال آج پوری دنیا کے سامنے واضح ہو چکا ہے۔ مارکسسٹ پہلے ہی اس انسان دشمن نظریے کے خلاف ںے رحمانہ تنقید کر کے اپنا موقف واضح کر چکے ہیں۔
دنیا کی تاریخ میں ہر چند سو سال بعد کمیتی اور کیفیتی طور پر ایسی حیرت انگیز تبدیلیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں کہ ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ گزشتہ تاریخ ، معاشرہ ، تہذیب ، فکر اور فن سب بدل گئے ہیں ۔ اور حیات و کائنات کے بارے میں ہمارا رویہ ہمارے معاشی، سماجی اور سیاسی نظام، ہمارا ادب اور فن ، ہمارا ور لڈویو ، ہمارا ظاہر و باطن ، ہماری بنیادی قدریں ۔ غرضیکہ پرانی تعمیریں منہدم ہو جاتی ہیں اور فکر و اظہار کے نئے پیکر اور اُسلوب جنم لیتے ہیں۔ جسے تاریخ کا تسلسل کہا جاتا ہے اس میں مسلسل عدم تسلسل کی صورتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ہر تبدیلی نئی امید، نئے خدشات اور نئے امکانات کو جنم دیتی ہے ۔ جدیدیت سے مابعد جدیدیت کی تبدیلی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کیا نئی صدی کے دہانے پر ہم ایک بار پھر ایسی ہی تبدیلیوں کے روبرو ہو رہے ہیں۔ سائنس اور ٹکنا لوجی نےانسان اور کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو ہی نہیں بدلا بلکہ انسان اور کائنات کو ہی بدل دیا ہے ۔
دنیا کی تاریخ میں ہر چند سو سال بعد کمیتی اور کیفیتی طور پر ایسی حیرت انگیز تبدیلیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں کہ ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ گزشتہ تاریخ ، معاشرہ ، تہذیب ، فکر اور فن سب بدل گئے ہیں ۔ اور حیات و کائنات کے بارے میں ہمارا رویہ ہمارے معاشی، سماجی اور سیاسی نظام، ہمارا ادب اور فن ، ہمارا ور لڈویو ، ہمارا ظاہر و باطن ، ہماری بنیادی قدریں ۔ غرضیکہ پرانی تعمیریں منہدم ہو جاتی ہیں اور فکر و اظہار کے نئے پیکر اور اُسلوب جنم لیتے ہیں۔ جسے تاریخ کا تسلسل کہا جاتا ہے اس میں مسلسل عدم تسلسل کی صورتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ہر تبدیلی نئی امید، نئے خدشات اور نئے امکانات کو جنم دیتی ہے ۔ جدیدیت سے مابعد جدیدیت کی تبدیلی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کیا نئی صدی کے دہانے پر ہم ایک بار پھر ایسی ہی تبدیلیوں کے روبرو ہو رہے ہیں۔ سائنس اور ٹکنا لوجی نےانسان اور کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو ہی نہیں بدلا بلکہ انسان اور کائنات کو ہی بدل دیا ہے ۔
الطالبین: (غوث الاعظم پیر سید عبدالقادر جیلانیؒ
‘ ہے۔ اس میں ایک مقدمے میں انگریز مرد اور عورت کو سزائے موت ہوئی۔ دونوں نے مل کر عورت کے خاوند کو قتل کیا تھا۔ سزا دینے والے سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج ہندوستانی تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ میں اس سزا پر عملدرآمد رُک جائے گا۔ سپریم کورٹ کے انگریز ججوں نے نچلی عدالتوں کے فیصلے کی توثیق کی۔
مصنف : شاہ محمد مری
وہ سماجی نظام جو بنی نوع انسان کو ایک پشت میں دو بار عالمگیر جنگ کی بھٹی میں جھونک سکتا ہے
گوادر، کیچ اور مکران کا گزیٹیر | Gawadar kech and makran gazetteer